تر دامنی

قسم کلام: اسم مجرد

معنی

١ - گناہ گاری، خطاکاری، جرم۔ "کیوں تیرے ست اور پاک بازی کے دامن سے لوگوں کو. تردامنی کی بو نہ آئے۔"      ( ١٩١٤ء، راج دلاری، ١٠٨ )

اشتقاق

فارسی زبان سے ماخوذ اسم صفت 'تر' کے ساتھ فارسی لاحقہ 'دامن' کے ساتھ 'ی' بطور لاحقہ کیفیت ملانے سے مرکب بنا۔ اردو میں بطور اسم مستعمل ہے۔ ١٧٨٤ء میں "ریاض البحر" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - گناہ گاری، خطاکاری، جرم۔ "کیوں تیرے ست اور پاک بازی کے دامن سے لوگوں کو. تردامنی کی بو نہ آئے۔"      ( ١٩١٤ء، راج دلاری، ١٠٨ )

جنس: مؤنث